وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف آج بروز بدھ 31 اگست کو خیبر پختونخوا  سے متاثرہ اضلاع کے دورے پر کے پی پہنچے،جہاں انہوں نے پھنسے ہوئے سیاح اور سیلاب سے متاثرہ افراد سے ملاقاتیں کیں۔خیبر پختونخوا آمد پر انجینیر امیر مقام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔موقع پر موجود متاثرہ خاتون نے وزیراعظم سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سارے سفارشی لوگ یہاں سے چلے گئے ہیں، ہماری مدد کون کرے گا؟۔ ایک خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم کراچی سے آئے ہیں، یہاں ہمیں بے عزت کیا جا رہا ہے۔جس پربریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بلوچستان میں 2 ہزار سے زائد سڑکیں سیلاب سے تباہ ہوچکی ہیں، سیلاب کے باعث 65 ہزار سے زائد گھر گر گئے ہیں جبکہ 26 اگست کو کوئٹہ مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہوگیا تھا۔قبل ازیں وزیر اعظم نے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے موقع پر دوران سفر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔شہباز شریف نے جعفر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2010 کا سیلاب بھی بہت بڑا تھا لیکن سیلاب صرف دریائے سندھ اور اس سے ملحقہ علاقوں تک محدود تھا، جبکہ حالیہ سیلاب پورے ملک میں تباہی مچادی ہے اور بلوچستان اور سندھ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، حکومت سارے مسائل حل کرنے گی۔ وزیراعظم نے حکام اور دیگر انتظامیہ کو ریلیف کاموں میں تیزی لانے اور لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *