انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) اور ملت ٹریکٹر لمیٹڈ نے ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پرزوں کی قلت اور ترسیل میں رکاوٹ کی وجہ سے پیداوار بند کرنے کا اعلان کردیا ہے جس سے آٹو سیکٹر کا بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔گرین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹویوٹا گاڑیوں کے اسمبلر نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بتایا کہ درآمدی پابندیوں کی وجہ سے پرزوں کی قلت کے باعث اس کا پلانٹ یکم سے 16 ستمبر تک بند رہے گا۔آئی ایم سی نے بھی یکم سے 13 اگست تک پیداوار معطل رکھی اور اس کی وجہ آٹو سیکٹر کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے طریقہ کار کو قرار دیا تاکہ مکمل طور پر ناکڈ ڈاؤن کٹس اور مسافر کاروں کے اجزا کی درآمد کے لیے پیشگی منظوری حاصل کی جا سکے۔عام طور پر کانٹریکٹ اور یومیہ اجرت والے کارکنوں کو غیر پیداواری دنوں کے دوران کام سے نکال دیا جاتا ہے۔رابطہ کرنے پر آئی ایم سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی اصغر جمالی نے ڈان کو بتایا کہ ‘ہم نے غیر پیداواری دنوں کے تناظر میں کسی کانٹریکٹ اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو آف لوڈ نہیں کیا اور ہمارا مستقبل قریب میں ایسا کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔’انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم سی میں ملازمین کی مجموعی تعداد 4 ہزار سے زیادہ ہے۔کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کی فائلنگ میں کہا کہ درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کی منظوریوں میں تاخیر نے رکاوٹیں پیدا کیں جس کے نتیجے میں پرزوں کی دستیابی میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور اس کے نتیجے میں سپلائی چین اور پیداواری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔آئی ایم سی نے گاڑیوں کی بکنگ کو 18 مئی سے معطل رکھنے کے بعد حال ہی میں دوبارہ شروع کیا ہے۔جولائی میں ٹویوٹا یارِس اور کرولا کی پیداوار جولائی 2021 میں 4 ہزار 181 یونٹس سے گھٹ کر 2 ہزار 566 یونٹس رہ گئی جبکہ جیپوں اور پک اپ کی پیداوار جولائی 2021 میں ایک ہزار 82 کے مقابلے میں ایک ہزار 16 یونٹس رہی۔آٹو پارٹس بنانے والے/برآمد کرنے والے مشہود علی خان نے کہا کہ صرف آئی ایم سی نے کووڈ 19 کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے آٹو پارٹس فروشوں کی مدد کی اور اب جولائی سے غیر پیداواری دنوں کے دوران وینڈورز کو سود سے پاک قرضے دے کر دوبارہ مدد کررہا ہے۔یہ قرضے فروخت سے اگلے سال جنوری سے جون تک واپس کیے جاسکتے ہیں۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *